ملتان کا سلطان — جب انضمام الحق اکیلے پورے بنگلہ دیش پر بھاری پڑ گئے
انضمام الحق: ملتان کی وہ شام
جب ایک آدمی نے میچ بدل دیا
ستمبر 2003 کو ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تیسرا ٹیسٹ میچ آج بھی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے یادگار مقابلوں میں شمار ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش نے پہلی اننگز میں 281 اور دوسری اننگز میں 154 رنز بنا کر پاکستان کو جیت کے لیے 261 رنز کا ہدف دیا تھا۔
پاکستان کی ٹیم دباؤ کا شکار ہوگئی اور ایک وقت اسکور 164/7 تھا۔ بنگلہ دیش اپنی تاریخ کی پہلی ٹیسٹ فتح کے بہت قریب پہنچ چکا تھا۔ مشکلات کے اس لمحے پر انضمام الحق بنگلہ دیش کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے نہ صرف ذمہ دارانہ بلکہ شاہانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے 232 گیندوں پر ناقابلِ شکست 138 رنز بنائے — جس میں 20 خوبصورت چوکے اور ایک شاندار چھکا شامل تھا۔
ایک طرف وکٹیں گر رہی تھیں لیکن انضمام کے قدم نہیں ڈگمگائے۔ نو وکٹ گرنے کے باوجود آخری کھلاڑی کے ساتھ مل کر انہوں نے پاکستان کو ایک وکٹ سے تاریخی فتح دلائی۔ یہ اننگز صرف ایک سنچری نہیں تھی بلکہ حوصلے، اعتماد، تحمل اور قیادت کی مثال تھی۔ انضمام نے ثابت کیا کہ بڑے کھلاڑی مشکل وقت میں ہی اپنی اصل پہچان بناتے ہیں۔
ملتان کا وہ دن آج بھی ہمیں یاد ہے جب انضمام الحق نے تنِ تنہا پورے میچ کا رخ بدل دیا اور پاکستان کو شکست کے دہانے سے نکال کر فتح کی منزل تک پہنچایا۔
